Tuesday, 22 May 2018

Cowardice Short Story | بزدلی نے تباہ کیا

والد صاحب کا تعلق زمیندار گھرانے سے تھا۔ والد صاحب کا نام صاحب داد اور ان کے بڑے بھائی کا نام اللہ داد اورچھوٹے بھائی کا نام خداداد تھا۔ والد صاحب کے دوبھائی تھے اور سب ایک گھر میں رہتے تھے کیونکہ دادا اور دادی کی یہی خواہش تھی سب مل جل کر رہیں۔







Monday, 21 May 2018

ASAL MUJRIM KON? |اصل مجرم کون؟ معاشرے کے دورخے کردار کی کہانی

سہیلہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھی جس کے والد دفتر میں کلرکی کے فرائض انجام دیتے تھے۔ یہ لوگ سفید پوش ہونے کی وجہ سے گزر بسر انتہائی معمولی حیثیت سے کرتے تھے۔ لیکن غربت کے باوجود اپنی عزت کا بھرم انہوں نے رکھا ہوا تھا۔ سہیلہ کے ساتھ میں آٹھویں تک پڑھی تھی پھر ناداری کے سبب اس نے پڑھائی درمیان میں چھوڑ دی تھی۔ 






Sunday, 20 May 2018

STORY IN URDU ACHAY LOGU KI KAMI NAHI | اچھے لوگوں کی کمی نہیں

میری عمر اس وقت تیس سال تھی جب میرے شوہر کا انتقال ہوا۔ میرے چار بچے سکول میں زیر تعلیم تھے۔ بارہ سال کا بیٹا عمر ساتویں جماعت کا طالب علم تھا جب کہ باقی تین چھوٹے تھے۔ شوہر کے انتقال کے بعد کفالت کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آگئی اور راتوں کی نینڈ اڑ گئی۔ 










Ab bacha kya jab chidiya chug gayi khet in Urdu | اردو کہانی چڑیاں چک گئیں کھیت

میں فیاض کو پسند کرتی تھی اور وہ میرے چچا کا بیٹا تھا۔ ہم بچپن میں اکٹھے رہے تھے اسےمیں نے ایک خیال رکھنے والا اور شریف النفس انسان پایا تھا۔ وہ انتہائی ہمدرد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میری خوب اس سے بنتی تھی۔ اس کے علاوہ جو دوسرے رشتہ دار اور کزن تھے وہ انتہائی بدتمیر تھے اور مجھے ہمیشہ تنگ کرتے یہی وجہ تھی میں ان سے کنارہ کرتی








Saturday, 19 May 2018

rab ne bana di jodi urdu story | رب نے بنادی جوڑی

میں اپنے والدین سے اس وقت جدا ہوئی جب میلہ دیکھنے ان کے ہمراہ گئی تھی۔ بھیڑ کافی تھی انہیں ڈھونڈنا دشوار تھا تو مین ایک راستے پر چلتی رہی۔ تھکنے پر ایک جگہ رکی اور خوب جی بھر کر روئی۔ ایک گاڑی میرے پاس سے گزری جس میں ایک مرد اور ایک عورت براجمان تھے کیوں رو ہورہی ہو؟ انہوں نے کار سے اتر کر استفسار کیا۔ میں نے روتے ہوئے بتایا کہ میں راستہ بھول گئی ہوں۔ 






Friday, 18 May 2018

URDU STORY SHAYAD WO LOT AAI | شاید لوٹ آئیں اردو کہانی

میرے والد سکول کے پرنسپل تھے اور ان کے باقی رشتہ دار کاروبانی لین میں مصروف تھے۔ ہمارا شمار امیرلوگوں میں نہیں ہوتا تھا اس لیے ہمارے باقی بزنس مین رشتہ ہمیں کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے۔ یہ دنیا عجیب رنگ ڈھنگ کی ہے کہ جہاں پیسہ ہو تو رشتہ داریاں بھی ہوتی ہیں اور اگر بندہ غریب ہو تو اپنے سگے بھی منہ موڑ لیتے ہیں۔ اگرچہ میں رنگ روپ کے لحاظ سے بے مثال تھی، لیکن اپنے رشتہ داروں کے ہم پلہ نہ ہونے کی وجہ سے میرے لیے ابھی تک کوئی رشتہ نہ آیاتھا۔